سورس: NASA
برازیلیا (ڈیلی پاکستان آن لائن) ماہرین فلکیات نے ایک نہایت دیوقامت بلیک ہول دریافت کیا ہے جس کا حجم سورج سے 36 ارب گنا زیادہ ہے۔ یہ بلیک ہول ایک دور دراز کہکشاں LRG 3-757 کے مرکز میں واقع ہے۔ اس دریافت کا سہرا برازیل کی یونیورسیدادے فیڈرل ڈو ریو گرانڈے ڈو سُل کے سائنسدان کارلوس میلو کارنیرو اور ان کی ٹیم کے سر جاتا ہے۔ یہ تحقیق "کوسمک ہارس شو گریویٹیشنل لینز" نامی نظام کا مطالعہ کرتے ہوئے سامنے آئی۔ یہ سسٹم زمین سے ساڑھے پانچ ارب نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔
اس قسم کے بلیک ہولز کو "الٹرا میسو بلیک ہول" کہا جاتا ہے کیونکہ یہ عام سپر میسو بلیک ہولز سے بھی کئی گنا زیادہ بڑے ہوتے ہیں۔ سائنسی مقالے میں بتایا گیا ہے کہ ہر بڑی کہکشاں کے مرکز میں سپر میسو بلیک ہول موجود ہوتا ہے اور اس کا حجم کہکشاں کی ڈویلپمنٹ کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہے۔
ایک اور نظریہ یہ ہے کہ LRG 3-757 کا بلیک ہول ایک ایسا "فوسل گروپ" ہو سکتا ہے جہاں کئی چھوٹی کہکشائیں ایک بڑی کہکشاں میں ضم ہو چکی ہیں۔ ان کہکشاؤں میں نئے ستارے بننا تقریباً ختم ہو چکا ہوتا ہے اور انہیں "ریڈ اینڈ ڈیڈ" یعنی "سرخ اور مردہ" کہکشائیں کہا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت ہمیں کہکشاؤں کی ارتقائی تاریخ اور بلیک ہولز کے بننے کے عمل کو مزید گہرائی میں سمجھنے میں مدد دے گی۔